بنگلورو،28؍ اگست(ایس اونیوز)ریاستی وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے کہاکہ برہت بنگلور مہانگر پالیکے میں کانگریس اور جنتادل (ایس) کے درمیان اتحاد کو کوئی بھی خطرہ لاحق نہیں ہے، اور میعاد کی تکمیل تک اتحاد برقرار رہے گا۔آج ودھان سودھا کے قریب اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئندہ ماہ جب میئر کے انتخابات ہوں گے اس مرحلے میں بھی کانگریس کو یقین ہے کہ جنتادل (ایس) پارٹی کا ساتھ دے گی۔ شہر میں ہوئی موسلادھار بارش کے سبب نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے سے عوام کو ہوئی دشواریوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے جارج نے کہاکہ غیر متوقع طور پر اگر اتنی بھاری برسات ہوئی ہے تو عوام کو یہ جان لیناچاہئے کہ شہر بنگلور کا انفرااسٹرکچر اتنی بڑی برسات کو برداشت کرنے کیلئے نہیں بنایا گیا ہے، اب جبکہ یہ تجربہ ہوچکا ہے بی بی ایم پی شہر کے ڈرینج نظام کو اور بھی بہتر بنانے کیلئے منصوبہ سازی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب زور دار بارش کے سبب میسور روڈ کے متعدد علاقے زیر آب آچکے تھے اور یہاں کی مندروں میں بھی پانی گھس آیا تو بی بی ایم پی نے اس سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھایا اور اس بار زبردست بارش کے باوجود یہاں پانی جمع نہیں ہوا۔ ڈی وائی ایس پی گنپتی کی مبینہ خود کشی کے معاملے سے انہیں جوڑے جانے پر جارج نے یہ کہتے ہوئے ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کردیاکہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اسی لئے وہ اس پر بحث کرنا نہیں چاہتے ، لیکن جہاں تک بی جے پی کا الزام کہ اس معاملے میں وہ ملوث ہیں وہ جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جیسے ہی گنپتی معاملے میں پولیس نے ایف آئی آر درج کیا انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا اور تحقیقات میں پولیس کا ساتھ دیتے رہے اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس معاملے میں ان کا ہاتھ نہیں ہے اس کے بعد ہی وہ دوبارہ وزارت میں شامل ہوئے ہیں۔ پولیس کی بی رپورٹ کے خلاف گنپتی کے خاندان والے سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں اس سلسلے میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنائے اس وقت تک کا انتظار کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر انہوں نے استعفیٰ دے کر اخلاقی برتری کی مثال قائم کی ہے، جبکہ بعض مرکزی وزراء کے خلاف مختلف معاملات میں چارج شیٹ بھی درج ہے ، لیکن وہ اب تک اس معاملے میں اپنی اخلاقی ذمہ داری کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہیں۔